الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نقش ونگار مسجد کے مال سے

سوال

مسجد میں شیشہ کا کام مسجد کے پیسہ سے کرایا گیا ہے، حالانکہ اہل محلہ اور بعض اہل شہر نے متولیان کو منع کیا کہ یہ روپیہ ایسے کام میں ضائع مت کرو، بلکہ مسجد کی دوکانات جنوبی کو از سرِ نو تعمیر کرا کے اس کے اوپر کمرہ تعمیر کراؤ کہ جس سے مسجد کو کافی آمدنی ہو، اور جائداد بھی محفوظ ہو جائے لیکن متولیان نے ایسا نہیں کیا بلکہ شیشہ کے کام میں صرف کر دیا جو تقریبا پانچسو روپیہ کا ہو گا کیا یہ خرچ اسراف بیجا ہے یا نہیں اگر اسراف بیجا ہے تو یہ گراں رقم مسجد کوکون ادا کریگا؟

جواب

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ مسجد میں علاوہ محراب کے دوسرے حصوں چھت وغیرہ میں نقش و نگار کرنا اپنے حلال روپیہ سے جائز ہے، لیکن محراب میں یعنی جانب قبلہ کی دیوار میں ایسے نقش و نگار کرنا جس سے نمازیوں کی توجہ منتشر ہو مکروہ ہے اس طرح زیادہ تکلف کے بعد باریک باریک نقوش اور بیل بوٹے نکلوانا بھی مکروہ ہے، اور مال وقف سے تو ان چیزوں میں سے کچھ بھی جائز نہیں، جو چیز تعمیر کو پختہ اور…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو