مسجد میں مینار
سوال
ہمارے یہاں مسجد میں پہلے پرانے چاروں کونوں پر چارمنار ہیں، اب اس کے بعد آگے کا برآمدہ بنانا ہے، اس کے آگے بھی میناروں کی بنیاد رکھی ہے، اور وہ مینار بھی برآمدہ کے برابر یعنی چھت سے دو ڈھائی فٹ اوپر کر کے چھوڑ دیئے ہیں، اب لوگوں کا ارادہ بنانے کا ہے، چھ مینار ہو جائینگے، تو کچھ شریعت کے خلاف تو نہیں، آیا دو مینار توڑ دیئے جائیں، وہ چھوٹے ہیں، ان دو میناروں کو ان سے بڑے بنانا چاہتے ہیں؟
جواب
مینار کے متعلق شریعت کی طرف سے کوئی تحدید تعیین نہیں، البتہ مسجد کی ہیئت ایسی ہونی چاہئے کہ دیکھنے والے پہچان لیں کہ یہ مسجد ہے، عامہ دو مینار بنانے کا معمول ہے، کسی مسجد میں چار اور کسی میں اس سے زائد بھی ہیں مگر یہ سب کسی شرعی امر کیوجہ سے نہیں، نہ ممانعت ہے، البتہ بلا وجہ پیسہ خرچ نہ کیا جائے، خاص کر وقف کا پیسہ، کہ اس میں بہت احتیاط ضروری ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔