ہوسٹل کے کمرے توڑ کر مسجد بنا لینے سے وہ شرعی مسجد نہیں
سوال
ایک ہوسٹل کہ جس میں ساڑھے تین سو کے قریب لڑکے رہتے ہیں، اس کے اندر چار پانچ کمروں کو توڑ کر ایک مسجد بنائی گئی جس کو با قاعدہ مسجد جیسی شکل وصورت نہیں دی، مذکورہ مسجد میں با قاعدہ نماز پنجگانہ با جماعت ہوتی ہے، اور امام اور مؤذن کا مکمل انتظام ہے اور اس میں جمعہ بھی ہوتا ہے، تو کیا اس مسجد کے لئے بھی وہی حکم ہوگا، جو کہ دیگر مساجد کے لئے ہے، یا کچھ فرق ہے، مثلاً جنبی اور حائضہ کا نہ داخل ہونا اور ایسے آدمی کا بلا تیمم کئے مسجد سے نہ نکلنا جو کہ مسجد میں سویا ہو، اور غسل کی حاجت پیش آگئی، یا اسی طرح مسجد کو گزرگاہ…
جواب
اس جگہ پر مسجد شرعی کے احکام جاری نہیں ہوں گے، یہاں جماعت ثانیہ بھی منع نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔