الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

واقف نے تولیت کے لئے کسی کو متعین کر دیا تو اس کے خلاف کرنا

سوال

(۱) ایک مسلمان نے اپنی جائداد وقف علی اللہ کرتے ہوئے تحریر فرمایا کہ تاحیات میں خود اس کا متولی ہوں گا، اور بعد میری وفات کے زید متولی ہوں گے، اور بعد وفات زید یا میری موجودگی میں زید فوت ہو جائے تو بعد میرے تولیت ایک کمیٹی کو پہنچے گی، جس کے تین مقتدر حضرات جو مذہب اسلام رکھتے ہوں اور ضلع مظفر نگر میں رہتے ہوں منیجر ہوں گے کیا واقف کو مندرجہ بالا واضح اور صاف ہدایت کی موجودگی میں ضلع مظفر نگر کے مسلمان باشندہ کے علاوہ کسی دیگر ضلع کے باشندہ کو بھی جو مظفر نگر ضلع میں سکونت پزیر نہ ہوں وقف کمیٹی کا رکن خلاف مرضی…

جواب

ا - جب تک واقف کی بیان کردہ شرط کی رعایت ہو سکے اس کے خلاف کرنا جائز نہیں: لان شرط الواقف كنص الشارع، لہذا ضلع مظفر نگر ہی کے تین مقتدر ومتدین حضرات کو تولیت کا ذمہ دار بنایا جائے تین کے علاوہ اگر کمیٹی کے لئے زائد افراد کی ضرورت پیش آئے تو حسب مصالح غیر ضلع سے بھی لئے جاسکتے ہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو