الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اوقات نماز متولی تبدیل کرے یا امام

سوال

متولی صاحب کو نماز کے اوقات کما حقہ، معلوم نہیں، اس پر وہ کہتے ہیں کہ میری بغیر اجازت پیش امام نماز کے اوقات نہیں بدل سکتے ہیں، کیا متولی کا کہنا صحیح ہے

جواب

بات کو طول دینے اور بگاڑنے کے بجائے اگر اس طرح کر لیا جائے، تو بہتر ہے کہ امام اوقات کی رعایت کرتے ہوئے جب وقت تبدیل کریں تو متولی صاحب کو اطلاع کر دیا کریں کہ آپ فلاں وقت کو اس طرح تبدیل کر دیں، اور اس کا اعلان کر دیں، تاکہ متولی بھی خوش رہیں، اور کام میں رکاوٹ بھی پیدا نہ ہو، نماز بھی صحیح اوقات پر ہو جایا کرے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو