کمیٹی کے ایک آدمی کا تنہا مسجد میں تصرف
سوال
ایک مسجد کے نمازیوں نے مسجد کا نظم پانچ آدمیوں کے سپرد کر رکھا ہے، ان میں زید بھی شامل ہے، مگر زید بغیر باقی آدمیوں کے مشورہ اپنی رائے سے مسجد کے نظم میں تصرف کرتا رہتا ہے، خود ہی امام رکھتا ہے، خود ہی کچھ دنوں بعد کچھ الزام لگا کر نکال دیتا ہے، ایسے ہی تعمیرات کے بارے میں لوگ کچھ کہتے ہیں تو مانتا ہے نہیں، آپس میں بات بڑھتی ہے، اس صورت حال کو دس سال ہو چکے ہیں، شرعی کیا حکم ہے؟
جواب
اگر وہاں کے سمجھدار آدمی یہ سمجھتے ہیں کہ زید کے ان تصرفات سے مسجد کو نقصان پہنچتا ہے، تو وہ اس کو ایسے تصرفات سے روک دیں، ہرگز اجازت نہ دیں بغیر پانچوں آدمیوں کے وہ تنہا کرنے کا حقدار نہیں، حساب بھی صاف رکھنا ضروری ہے اور کوئی کام ایسا نہ کیا جائے جس سے مسجد ویران ہو، اور تفرقہ پڑے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔