الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

متولی کا وقف کی آمدنی کو اپنے اہل وعیال پر خرچ کرنا

سوال

گوالپاڑہ میں ایک خراسانی پیر صاحب سیدابوالقاسم تھے، تقریباً صد سال قبل رہتے تھے، اسی دوران موصوف کا ایک صاحبزادہ انتقال فرما کر مسلمانوں کے قبرستان میں مدفون ہوا، بعد صاحبزادہ کے موصوف علیہ الرحمہ بھی چند سال بعد رحلت فرما گئے، جن کو سپرد خاک کئے ہوئے آج تقریباً پچہتر سال ہو رہے ہیں، اور موصوف کو بھی اسی عام قبرستان میں دفن کیا گیا، باپ بیٹے کی قبر میں صرف ایک پون ہاتھ کا تفاوت ہے، آج سے تقریباً بائیس تیئیس سال قبل مذکورہ موصوف کا ایک پوتا محی الدین (عرف بابو)

جواب

ا۔ پیسہ دینے والوں کا مقصد اگر صرف مزار کے خادم کی امداد واعانت ہے تو انجمن کو اس پر قبضہ کرنے اور دوسرے کاموں میں خرچ کرنے کی اجازت نہیں اگر عام قبرستان کی حفاظت کی خاطر دیتے ہیں تنہا مزار کے خادم کے لئے نہیں دیتے تو پھر جو لوگ سب قبرستان کے ذمہ دار ہیں ان کو حق ہے کہ وہ پیسہ لے کر حسب صوابدید قبرستان کی ضروریات میں صرف کریں، عوام کے سامنے اس مسئلہ کو پیش کر کے ان کا نظریہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو