الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وقف کے مصارف اور اس کی بیع

سوال

ایصالِ ثواب کے لئے پیچی کا باغ وقف ہے اور وصیت ہے کہ ہر سال میلاد شریف وکھانا مسکین ومسجد وغیرہ بچی کی آمدنی سے کیا جاوے مگر چند مجبوری مثلاً بچی چوری ہو جانا اس کی وجہ سے متولی صاحب نے بچی کے باغ کو بیچ دیا۔ ایسی صورت میں اس پیسہ کو اس مذکورہ کارِ خیر میں خرچ کرسکتا ہے یا نہیں؟ اگر درست نہیں تو کوئی اور صورت بیان فرمائیں۔

جواب

وقف کی بیع نا جائز ہے، اس بیع کو فسخ کر کے روپیہ دے کر باغ واپس لیا جائے۔ اگر باغ فروخت نہیں کیا بلکہ پھل فروخت کیا ہے تو حسب قواعد شرعیہ پھل کی بیع درست ہے۔ اس کی قیمت کو مسکینوں کی امداد مسجد کی مرمت اور بقر عید پر قربانی میں خرچ کیا جائے میلاد مروجہ کی جگہ دینی مواعظ کا انتظام کیا جائے جن میں حضرت نبی اکرم ﷺ کے حالات وارشادات کو بیان کیا جاوے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو