الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

موقوفہ زمین کی بیع

سوال

تقریباً چالیس سال قبل ایک شخص نے کچھ زمین دینی درسگاہ کے لئے وقف کی تھی اس کے بعد اس زمین کے اندر مدرسہ کا مکان بھی تعمیر ہو گیا تھا، وقف کرنے کے پانچ یا سات سال کے بعد کے حادثہ میں یہ مدرسہ بالکل نابود ہو گیا جس کی بنا پر مدرسہ کے متولی صاحب نے یہ زمین اور مکان فروخت کردی، وقف کنندہ نے زمین خرید لی اس کے بعد مدرسہ کی دوسری وقف شدہ زمین کے ساتھ ساتھ سرکار کے محصول ادا نہ ہونے کی بناء پر گورنمنٹ نے یہ زمین نیلام کردی دوسرے ایک شخص نے گورنمنٹ سے خرید لی۔

جواب

جو زمین ایک دفعہ صحیح طریقہ پر وقف ہو جائے تو اس کی خرید وفروخت جائز نہیں لہٰذا اس کو چاہئے کہ وہاں اپنا ذاتی مکان نہ بنائے بلکہ اس زمین کو کرایہ پر لیلے اور مکان بنالے، زمین مدرسہ کی رہے گی اور مکان اس شخص کا رہے گا، زمین کا کرایہ مدرسہ کو دیتا رہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو