بیع بشرط اقالہ اور وقف کی بیع
سوال
مسلمانوں کے درخواست کرنے پر سرکار نے عید گاہ کے لئے زمین صرف پانچ روپے شکرانے لے کر عطا کی اور اس کا قبالہ بھی عطا کیا چنانچہ اس عید گاہ کی زمین کو مسلمانوں کے عام چندہ سے ہموار کرالیا گیا۔ نماز عید ین عرصہ تین سال سے اس عید گاہ میں ادا ہو رہی ہے، آج کل عموماً حسب قانون جدید ہر قبالہ میں یہ عبارت مطبوعہ درج ہوتی ہے کہ بکار رفاہ عام سرکار جب چاہیں گے واپس لے لیں گے۔
جواب
(۲) یہ صورت وقف کی نہیں بلکہ بیع فاسد کی صورت ہے، کمامر في الجواب الاول (۳) اگر اس کا وقف صحیح ہو چکا ہے، تو اس کو فروخت کرنا کسی حال میں جائز نہیں اس کی بیع ہی درست نہیں اس کی واپسی ضروری ہے اس کو فروخت کرنے والے گنہگار ہیں حتی الوسع اہل علم وفہم وارباب حل وعقد کے مشورہ کے مطابق اس کی واپسی کی کوشش ضروری ہے۔ (۵،۴)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔