الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مسجد کے لئے وقف زمین کو فروخت کر کے مدرسہ میں لگانا

سوال

محلے کی مسجد کا ذریعہ آمدنی نہ ہونے کی بنا پر ایک صاحب خیر نے مسجد کی آمدنی کی غرض سے زمین کا ایک قطعہ دکانیں بنانے کے لئے مسجد کے نام وقف کر دیا، اسی اثناء میں ایک دوسرے صاحب خیر نے ایک دوسرا قطعہ زمین خرید کر پانچ دُکانیں بنا کر اس مسجد مذکور کے نام وقف کر دی ہیں، اب مسجد کافی سے زیادہ خود کفیل ہو چکی ہے، اب مسجد کے متولی صاحب پہلے قطعہ کو فروخت کر کے اس کی قیمت اسی مسجد کے مدرسہ کے تعلیمی فنڈ میں استعمال کرنا چاہتے ہیں کیا مسجد کی رقم تعلیمی فنڈ میں استعمال کی جاسکتی ہے یا متولی صاحب کے لئے اس سے پہلے قطعہ زمین…

جواب

جو قطعہ زمین دوکانیں بنانے کے واسطے مسجد کے لئے وقف کر دیا ہے اس کو فروخت کر کے اس کی رقم کو مدرسہ کے تعلیمی کام میں خرچ کرنے کی اجازت نہیں۔ اگر چہ وہ مدرسہ اسی مسجد سے متعلق ہو: فاذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو