ضلعی انجمن کی تقسیم
سوال
دارالعلوم میں ایک ضلعی انجمن ہے جو قیام انجمن کے فارغین حضرات اور موجودہ افراد کے روپے سے چل رہی ہے، اور انجمن میں کتاب اور روپیہ پیسہ وغیرہ چیزیں موجود ہیں جن میں سے انجمن کے ہر ہر فرد کو انتفاع کا حق حاصل ہے، اور ان میں کسی کی ملکیت نہیں ہے، اب اگر وہ ضلع سرکاری حکم سے دوحصوں میں بٹ جائے اور دونوں الگ الگ نام سے موسوم کر دے تو انجمن کو دو حصوں میں اس طرح پر تقسیم کر لینا کہ ایک حصہ میں دوسرے حصہ والوں کا کوئی انتفاع کا حق نہ رہے بلکہ اپنے اپنے حصوں میں ہر ہر فرد کو صرف حق انتفاع ہو درست ہو گا یا نہیں؟
جواب
۱- سرکاری حکم سے اگر دو ضلع بن گئے تو اس سے کیا ہوا، کیا انجمن کے لوگوں کو بھی ساتھ رہنے سے ممانعت کر دی گئی یہ سب سر جوڑ کر حسب سابق مشترکہ طور پر رہیں امید کہ ان پر جرمانہ نہیں ہوگا، نہ حکومت ان کو قید کرے گی، اگر یہ صورت امکان سے باہر ہے تو انجمن کو ہی دو ضلع کے نام سے توسیع کر دی جائے کہ یہ انجمن فلاں فلاں ضلع کی ہے، کسی تقسیم کی ضرورت نہیں، اگر یہ بھی ناممکن ہے تو دونوں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔