الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وقف زمین میں اکھاڑہ

سوال

ایک خانقاہ ہے اور اس میں تھوڑی سی زمین میں پہلوانوں کے کشتی وغیرہ کرنے کیلئے مقرر ہے پہلے متولی جو تھے انہیں اسبات کا علم نہیں تھا کہ مال وقف۔ اپنے تصرف میں لانا جائز نہیں، لہذا ان پرانے متولیوں کو کسی وجہ سے علیحدہ کر دیا گیا اور دوسرے متولیوں کو تجویز کیا گیا اور ان متولیوں نے جو اس زمین میں کشتی وغیرہ کرتے ہیں وہ خلاف شرع کرتے ہیں یعنی ستر کھول کر ان کو منع کیا تو وہ منع نہیں ہوئے تو حاصل سوال کا یہ ہے کہ اگر ان پہلوانوں کو فساد روکنے کے واسطے دو تین مہینے کے واسطے اجازت دیدی جائے تو جائز ہے یا نا جائز کیونکہ…

جواب

وقف کی زمین کو جو اہل اللہ کے ذکر وشغل کے لئے وقف کی گئی ہے اکھاڑہ بنانا غرض واقف کے خلاف ہے، لہذا نا جائز ہے اور ستر کھول کر کشتی کرنا تو کہیں بھی جائز نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو