الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وقف کی دوکان میں دوکاندار اگر خنزیر کا گوشت فروخت کرے، اس کو خالی کرانا

سوال

ایک باغ جو قبرستان کے نام وقف ہے اور زید اس کا متولی ہے، جس کے دو نمبر ہیں، ایک خسرہ ۳۱۸ دوسرا ۳۱۹، ۳۱۸ میں قبریں ہیں، اور ۳۱۹ میں ابھی تک قبریں نہیں بنی ہیں، ۳۱۹ کے ایک کنارے پر چار گز لمبی اور چار گز چوڑی ایک دوکان کرایہ پر دیدی ہے، جس میں کرایہ دار خنزیر کے گوشت کی دوکان کرتا ہے، درانحالیکہ باغ شہر سے کافی فاصلہ پر واقع ہے، اس باغ کا تقریباً آٹھ سال سے مقدمہ چل رہا ہے اور زید مقدمہ بازی میں کافی مقروض ہو چکا ہے، جس قرض کا سود قریب ایک سو روپے سے زائد بیٹھتا ہے، اور چونکہ مذکورہ باغ سے کوئی خاص آمد بھی نہیں ہے،…

جواب

جب دوکان کرایہ پر دی ہے اور یہ شرط نہیں کی کہ اس میں خنزیر کا گوشت فروخت کیا جائے، پھر کرایہ دار جو بھی فروخت کرے وہ خود اس کا اپنا عمل ہے، نیز غیر مسلم کو اس سے روکا بھی نہیں جاسکتا، کیونکہ اس کے مذہب میں خنزیر کے گوشت کی خرید وفروخت صحیح ہے، اس لئے متولی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ اس کو خالی کرائے خاص کر ایسی حالت میں کہ کوئی دوسرا کرایہ دار بھی شہر سے باہر میسر نہیں آتا،…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو