مدرسہ کیلئے چندہ کر کے جو عمارت بنائی جائے کیا وہ وقف ہے؟
سوال
ایک مدرسہ دینیہ ۳۸ سال قبل یہاں قائم کیا گیا، درس وتدریس کا کام کرایہ کی عمارت میں شروع ہوا، چندہ خصوصی وعمومی سے مدرسہ کے مصارف پورے کئے جاتے ہیں، مدرسہ قائم ہونے کے چند سال بعد والی ریاست ٹونک نے ایک ہزار سالانہ رقم مقرر فرمادی، چونکہ یہ آمدنی رقم مدرسہ کے مصارف کی کفیل نہیں ہو سکتی تھی، اس لئے بذریعہ سفیر بیرون جات سے چندہ بھی ہوتا رہا، اور اب بھی ہو رہا ہے اور ریاست کے حکمراں کی مقرر کردہ امداد بچند وجوہ اس دورِ حکومت میں ملنا بند ہوگئی منتظمین مدرسہ نے عرصہ ہوا ایک عمارت مع اس کے وسیع احاطہ کے خرید لی، جب سے…
جواب
جو عمارت چندہ کر کے بنائی گئی ہو یا خریدی گئی ہو وہ ابھی وقف نہیں ہوئی جب تک اس کو وقف نہ کر دیا جائے اور مصالح مدرسہ کا تقاضا ہے کہ اسے اب سے وقف کر دیا جائے قاضی خاں جلد چہارم ص: ۳۰ میں ہے: المتولّى اذا اشترى من غلّة المسجد حانوتا اوداراً او مستغلاً اخر جاز لان هذا من مصالح المسجد فاذا اراد المتولى أن يبيع ما اشترى وباع اختلفوا فيه قال بعضهم لا يجوز هذا البيع لان هذا صار من…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔