عقیقہ کا گوشت بچہ کے ماں باپ کیلئے
سوال
عقیقہ کے گوشت میں سے بچے کے والدین اور تمام اصول و فروع کھا سکتے ہیں، یا کہ نہیں اگر نہیں تو مخالفت کس درجہ کی ہے، اور اگر کھا سکتے ہیں تو کیا کسی کراہت کے ساتھ یا بلا کراہت کے اور رسالہ عقیقہ مصنفہ حضرت مولانا نظام الدین میں صفحہ ۱۷/ پر لکھا ہوا ہے اور یہ جو مشہور ہے کہ عقیقہ کا گوشت ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی، بیٹا، بیٹی، پوتی، پوتا، نہ کھاویں سو مسلمانوں کی رسم ہے، ”ماراہ المؤمنون حسناً فهو عندالله حسن “ بلکہ خاتم المحدثین نے حدیث ”كل غلام مرهون بعقيقة“ سے نکالا ہے کہ اس حدیث میں ”رھن “ کا لفظ گروی کے…
جواب
ہمارے ائمہ ثلاثہ سے اس مسئلہ کے متعلق کوئی صراحت منقول نہیں ہے، عموماً کتب فقہ اس سے خالی ہیں حدیث شریف میں بھی کوئی تذکرہ نہیں ہے، جس بنیاد پر مکروہ کہا گیا ہے، اس کی حیثیت دلیل شرعی کی نہیں بلکہ محض نکتہ اور لطیفہ کی ہے، اس سے زائد نہیں، ثبوت کراہت کے لئے شرعی دلیل درکار ہے، اور ادلہ شرعیہ چار ہیں، رہا مسلمانوں کی عادت کا حال سو وہ دونوں قسم کی ہے، کسی ایک چیز پر اجماع یا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔