مردہ کی طرف سے قربانی کر کے قیمت چرم اپنے بیٹے کو دینا
سوال
ایک آدمی مردہ کی جانب سے قربانی کرتا ہے، اور قربانی کا چمڑہ جو ہے، اس کی قیمت اپنے لڑکے کو دیتا ہے، جو دور دراز میں پڑھتا ہے، اس غرض سے کہ اس قیمت سے کتابیں خرید لیں اور اس آدمی کے ساتھ بھی رقم دیتے ہیں، کیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟
جواب
اس قیمت کا صدقہ کرنا واجب ہے، اصول و فروع کو یہ صدقہ دینا جائز نہیں، لہذا بیٹے کے علاوہ کسی اور کو دے، اور دوسرے شرکاء اگر اصول و فروع نہیں تو اس لڑکے کو صدقہ دے سکتے ہیں، اگر اس اصول کے فروع ہیں تو وہ بھی نہیں دے سکتے، حاصل یہ کہ جو مصرف زکوٰۃ ہے وہی اس صدقہ کا مصرف ہے، جس کو زکوٰۃ دینی جائز ہے اس کو یہ صدقہ بھی دینا جائز ہے، جس کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں اس کو یہ بھی دینا جائز…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔