الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

چرم قربانی سے مہمان خانہ بنانا

سوال

چرم قربانی کے پیسے سے مہمانخانہ بنا سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر جائز نہیں ہے تو گاؤں میں ایک مکتب ہے جس کو مہمان خانہ بنالیا جائے، اور مکتب کی جگہ چرم قربانی کے پیسے سے مکتب قائم کر دیا جائے، اس قسم کی تبدیلی درست ہے، یا نہیں؟ اگر تبدیلی کرنا جائز نہیں ہے تو چرم قربانی کے پیسے قرض لے کر مہمان خانہ بنا سکتے ہیں، یا نہیں؟ اس کے قبل گاؤں والوں نے اس قسم کے پیسے قرض لے کر مسجد بنالی اور یہ معاملہ تین بار ہو چکا ہے، مگر اب تک رد نہیں ہوا اور رد کرنے کی امید بھی نہیں ہے، اسکو مد نظر رکھتے ہوئے جائز اور ناجائز تحریر کریں۔

جواب

قربانی کرنے کے بعد جب اس کی چرم فروخت کر دی جائے تو اس کی قیمت کا صدقہ کرنا واجب ہوتا ہے، تعمیر مہمانخانہ وغیرہ میں اس کا صرف کرنا جائز نہیں ہوتا، جو جگہ مکتب کے لئے وقف کر دی گئی ہے۔ اس کو مہمانخانہ بنالینا اور اس کے عوض مکتب کو دوسری جگہ منتقل کر دینا جائز نہیں ہے اور قیمت چرم قربانی کو تعمیر مکتب میں بھی خرچ کرنا درست نہیں کہ مکتب کے مہتمم کو اگر لوگوں نے چرم قربانی کا پیسہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو