چرم قربانی کی قیمت چوری ہوگئی تو کیا کرے
سوال
زید کی جیب سے کسی پاکٹ مار نے قربانی کی چرم کے پیسے جو کہ پینتالیس روپے تھے، نکال لئے، زید نے یہ روپیہ مدرسہ میں صدقہ کرنے کیلئے رکھے تھے، تو کیا یہ شریعت کی طرف سے معاف ہو گیا یا واجب الادا ہے؟
جواب
جبکہ زید نے قربانی کی کھال فروخت کر دی تھی، تو اس کی قیمت کا صدقہ کرنا واجب تھا، صدقہ کرنے سے پہلے چوری ہو جانے سے واجب ادا نہیں ہوا، اب اتنی مقدار اپنے پاس سے دے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔