اونٹ میں بھی سات حصے ہونگے
سوال
ایک اونٹ میں دس شریک ہو سکتے ہیں۔ (نسائی) نسائی کی حدیث کا مطلب کیا ہے۔ کیا ایک اونٹ میں دس آدمی شریک ہو سکتے ہیں جبکہ ہم نے سنا یہی ہے کہ اونٹ میں صرف سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں۔
جواب
یہ روایت بعض اصحاب ظواہر کی مستدل ہے، ائمہ اربعہ میں سے کیسی کا مذہب نہیں، بلکہ جمہور کا مسلک یہ ہے کہ اونٹ میں بھی بس سات ہی شریک ہو سکتے ہیں زیادہ نہیں! امام طحاوی نے متعدد روایات نقل کر کے لکھا ہے ” واما وجه ذلك من طريق النظر فاما تقدير اتباعهم قد اجمعوا ان البقرة لا تجزى في الاضحيه عن الاكثر من سبعة وهى من البدن باتفاقهم فالنظر على ذلك ان تكون الناقة مثلها ولا تجزى عن اكثر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔