ایک بکری میں شرکت درست نہیں
سوال
آنحضرت ﷺ نے دو مینڈھے بڑے بڑے سینگ والے چتکبرے خصی منگوائے، اپنی قربانی کر کے کہا کہ اے باری تعالیٰ میری اور میری امت کی طرف سے قبول فرما جو قربانی کی طاقت نہیں رکھتے۔ (ابوداؤد شریف)
جواب
”ثم المشاركة اما محمولة على الثواب واما على الحقيقة فيكون من خصوصية ذلك الجناب والاظهر ان يكون احدهما عن ذاته الشريفة والثاني عن امتہ “اھ اور اس سے معلوم ہوا کہ امت کو ثواب پہنچایا ہے، اس میں کچھ مضائقہ نہیں ہے، یہ نہیں کہ امت سے وجوب ساقط ہو گیا، ورنہ پھر قیامت تک کسی کے ذمہ بھی وجوب نہ ہوتا، فان كان ذلك ثابتالمن بعد النبي صلّى الله عليه وسلّم فهو يجزئ عمن اجزأه بذبح النبي…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔