فتوی از مفتی اعظم حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب قدس سره / لفظ جذعہ کی تشریح
سوال
زبان عربی کے اندر ”جذعة“ کا معروف معنی بکری کا ایک سالہ بچہ ہے، چنانچہ مولانا گنگوہی صاحب فرماتے ہیں ” قال اهل اللغة وغيرهم الجذع التي تمت لها سنة ركوب“، اور مولا نا خلیل احمد صاحب محدث سہارنپوری نے لکھا ہے ”الجذع في اللغة ما تمت له سنة، بذل المجهود ج ۴، ص ۷۱ / اور جب جذعة“ کے معنی عربی زبان میں یکسالہ ہے، تو شارع عربی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد ”فتذبحوا جذعة من الضان“ کے اندر بھی ”جذعة“ سے مراد یکسالہ ہی ہوگا، نہ اور کچھ مگر ہمارے فقہاء تو جذعہ کے معنی یہ بیان کرتے ہیں ” الجذعة ماتمت ستة اشهر“ سوال یہ ہے کہ وہ…
جواب
جس طرح علم حدیث مستقل فن ہے اس کی مخصوص اصطلاحات ہیں ضروری نہیں کہ ان اصطلاحات کو لغوی معنی ہی میں استعمال کیا جائے، بلکہ وہ منقول ہیں، جیسے معضل، شاذ منکر، غریب، محدث، حافظ، حجة، حاکم، صحیح، حسن، غریب وغیرہ اگر لغوی ہی معنی میں ان کو لیا جائے گا تو مطلب خبط ہو جائے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔