الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سال بھر سے کم بھیڑ کی قربانی

سوال

بھیڑ اگر ایک سال سے کم کا اگر موٹا تازہ ہو اس کی قربانی جائز نہیں، یہ آپ ہی کی تحقیق سے معلوم ہوا اور اب آپ کے بقر عید والے اشتہار سے معلوم ہوا کہ ایسے بھیٹر کی اور قربانی جائز ہے، جو سال سے کم کا ہو چھ ماہ کا ہومگر سال بھر کا معلوم ہوتا ہو، یہ کہاں تک صحیح ہے، اور آپ کے اشتہار میں غلط شائع ہوا یا اب یہی مسئلہ ہو گیا، مدل لکھئے تا کہ علم میں اضافہ ہو؟

جواب

بھیڑ کی قربانی جب کہ اس کی عمر سال سے کم ہو، نا جائز ہونا میری کس عبارت سے معلوم ہوا اس کو بھیجئے بہشتی زیور اختر ی الحص ۴۲، ج ۳ر میں ایسے دنبہ اور بھیٹر کی قربانی کو جائز لکھا ہے مگر حاشیہ میں حضرت مولانا اشرف علی صاحب نے تحریر فرمایا ہے، بعضے علماء کا اس پر فتوی ہے لیکن مجھ کو در مختار کے اس جزئیہ ” ولا التى لا الية لها“ سے اس میں شبہ ہو گیا، ناظرین بطور خود علماء سے تحقیق…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو