الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قربانی کے لئے دو دانت کا لزوم

سوال

سورت سے ایک گجراتی اخبار بنام مسلم گجرات شائع ہوتا ہے، اس کا مضمون جس کی سرخی یہ ہے قربانی کے جانور کے دو دانت چاہئے، شائع ہوا ہے، جس کا مضمون حسب ذیل ہے،ثنی اور مسنہ دونوں کا ترجمہ دودانت والا ہوتا ہے، جس میں ہر ایک قسم قسم کے جانور آگئے، اور پہچان بھی ایسی واضح ہوگئی کہ ہر ایک شخص اسے دیکھ اور پہچان سکتا ہے، یعنی خلاصہ یہ ہے کہ کوئی بھی جانور مثلاً بکرا، گائے، اونٹ وغیرہ جب تک دودانت والے نہ ہو جائیں، اس وقت تک قربانی کے لئے جائز نہیں یہ گجراتی مضمون کا اردو میں لفظ بلفظ ترجمہ ہے، تو عرض ہے کہ کیا جناب نے ایسا…

جواب

الجواب ہو الموفق : یہ فتوی جو میں نے دیا ہے یا میری طرف منسوب ہے صحیح ہے، جانوروں کی عمریں پہچاننے کا عام اور صحیح طریقہ یہی ہے کہ ان کے دانتوں سے ان کی پہچان ہوتی ہے، دودانت والا بکرایا بکری یا مینڈھا سال سے کم کا نہیں ہو سکتا، ہاں یہ ممکن ہے کہ سال بھر کا ہو جائے لیکن دانت دونہ نکلے ہوں، فقہاء نے یہ طریقہ اس لئے اختیار کیا ہے، کہ اس میں عمر پوری ہونی ضروری ہے، اور عام طور پر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو