کس قربانی میں زیادہ ثواب ہے اپنی طرف سے یا والدہ یا رسول اکرم ﷺ کی طرف سے
سوال
زید پر قربانی فرض نہیں، اس کی والدہ ہندہ پر کچھ عرصہ پیشتر فرض تھی، جبکہ ہندہ مالک نصاب تھی، مسئلہ کا علم نہ ہونے سے وہ قربانی نہ کرتی تھی، اب زید اپنی طرف سے قربانی کرے یا اپنی والدہ کی طرف سے یا رسول اکرم ﷺ کی طرف سے؟ کس میں زیادہ ثواب ہے؟
جواب
زید اگر صاحب نصاب ہے تو اس کو اپنی طرف سے قربانی کرنا واجب ہے، اس کے ترک کی گنجائش نہیں کہ جتنے برس واجب ہونے کے باوجود والدہ نے قربانی نہیں کی اتنے برس کی قربانی کا صدقہ کرنا واجب ہے، والدہ کی اجازت سے زید بھی ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہے، اس سے والدہ کا ذمہ بری ہو کر آخرت کی پکڑ سے بچ جائے گی، اس میں بہت بڑا اجر ہے، گنجائش ہو تو حضرت رسول مقبول ﷺ کی طرف سے بھی قربانی کر دیں،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔