حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اشکالات
سوال
(۱) کیا حضرت امیر معاویہ نے اپنے زمانہ خلافت میں یزید کو خلیفہ مقرر کئے جانے کی کوشش کی اور کس حد تک؟ (۲) کیا حضرت امیر معاویہ نے زر کثیر خرچ کر کے بہت آدمیوں کو یزید سے بیعت کے لئے آمادہ کیا؟ (۳) کیا حضرت امیر معاویہ نے کسی موقع پر حضرت امام حسین ھے اور ان کے ساتھیوں کے سروں پر دو ننگی تلوار رکھوادیں اور حکم دیا کہ دوران تقریر جو شخص کلمہ تصدیق و تکذیب نکالے گا اس کا سر قلم کر دیا جائے گا، اور اس پر حضرت امیر معاویہ نے یزید کی خلافت کا اعلان کیا؟ (۴)
جواب
(۱) نہیں (۲) نہیں (۳) نہیں (۴) نہیں (۵) فحش گالیاں نہیں دیں سخت کلامی ہوئی ہے۔ (۶) خطا اجتہادی تھی خواہش نفسانی نہ تھی۔ حضرت امیر معاویہ جلیل القدر صحابی ہیں، ان کی شان میں کوئی گستاخی کا کلمہ کہنا جائز نہیں، اسی طرح کوئی برا گمان جو ان کی شان کے خلاف ہو دل میں رکھنا درست نہیں۔ حضور ﷺ نے ان کے لئے دعا فرمائی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔