فضلات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طہارت
سوال
حدیث شریف میں ہے جس کو شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب نے بھی حکایات صحابہ میں نقل کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خون کو ایک صحابی نے پی لیا، اس پر حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس کے بدن میں میرا خون گیا اس پر آگ جہنم حرام ہے، تو اس پر اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ خون کے بارے میں قرآن میں حرمت آئی ہے، تو پھر آپ نے اس کے شرب پر نکیر نہ فرمائی بلکہ بشارت دی، تو خونِ رسول اللہ ﷺ کی طہارت پر آپ کی تحقیق کیا ہے از روئے احادیث بیان فرمائیں؟
جواب
قاضی عیاض نے ”کتاب الشفاء میں اس کو نقل کیا ہے، ہو سکتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خون مبارک طاہر ہو جیسا کہ شرب بول کا واقعہ دار قطنی وغیرہ نے نقل کیا ہے یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ پاک نے اس کی ماہیت ہی بدل دی ہو جیسے کہ مشک کی کیفیت ہوتی ہے چنانچہ پینے والے سے جب دریافت کیا گیا کہ خون کا مزہ کیسا تھا “كيف وجدت طعم الدم، تو جواب دیا کہ مزہ شہد کا تھا اور خوشبو مشک کی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔