الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

آنحضرت ﷺ کیلئے صدقہ کی حرمت کی تحقیق

سوال

زید کہتا ہے کہ صدقہ خواہ فرض ہو کہ نفل، رسول اللہ ﷺ کو کھانا حرام تھا، اور بکر کہتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو صدقہ نفل کھانا حلال تھا، بکر کی دلیل یہ ہے: بکر یہ حدیث بیان کرتا ہے اور کہتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو صدقہ کھانا حرام تھا، تو کیوں بریرہ سے گوشت صدقہ کا کھاتے کس کا قول صحیح ہے؟ جواب عنایت فرمائیں؟

جواب

بکر نے اپنے دعوئی پر جو حدیث دلیل میں پیش کی ہے، اس میں تقریب تام نہیں، اس لحم کا صدقہ ہونا حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا پر پہنچ کر ختم ہو گیا، حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے خدمت اقدس میں ہدیہ ہو کر پیش کیا گیا نہ کہ صدقہ ہو کر عام دستور تھا کہ کوئی چیز بطور صدقہ پیش کی جاتی تو مستحقین صدقہ اصحاب صفہ و غیرہ کو عنایت فرما دیتے، خود نوش نہیں فرماتے تھے، حضرت سلمان فارسی جب حاضر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو