کثرت ازدواج کی حکمت
سوال
کیا وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات اقدس کے لئے نو یا سات ازواج مطہرات کو جائز قرار دیا اور عام امت کے لئے بیک وقت چار کی قدغن لگا دی واضح باد کہ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان وذات مبارک میں معاذ اللہ کوئی تنقید وتنقیص نہیں ہے، بلکہ یہ کوئی کافر کا اعتراض ہو سکتا ہے، اس کی تشفی کے لئے وضاحت مطلوب ہے۔
جواب
کثرت ازدواج کا مسئلہ جذبات نفسانی کا غلبہ اور تسکین نہیں ہے، جیسا کہ حالت ذیل میں غور کرنے سے بغیر کسی کے سمجھائے، ایک سلیم الفطرت آدمی خود بخود سمجھ سکتا ہے، پہلی شادی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ۲۵ سال کی عمر میں کی جب کہ قوت نامیہ کی ترقی ختم ہو جاتی ہے، اور ایسی عورت سے جسکی ایک سے زائد شادیاں پہلے ہو چکی تھیں، اور وہ بیوہ تھیں اور عمر چالیس ہو چکی سال تھی، پچاس سال سے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔