الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نفقه عدت، وفات، ولادت، رضاعت

سوال

مسمی عبدالرشید متوفی کی وفات کے چھ ماہ بعد اس کی حاملہ بیوہ سے ایک لڑکی پیدا ہوئی لڑکی چار سال زندہ رہ کر مرگئی، اب عبد الرشید کے ترکہ کی تقسیم کا معاملہ در پیش ہے، ہمارے علاقہ کے ایک مولوی صاحب نے فتویٰ دیا ہے کہ عبدالرشید کی بیوہ کی مدت حمل اور مدت رضاعت کا نفقہ ترکہ میں سے ادا کیا جاوے، بعد ازاں لڑکی کی تربیت کا دو سال کا خرچہ ادا کیا جائے اس کے بعد جو بچے وہ جملہ ورثاء میں حسب حصص شرعیہ تقسیم کر دیا جائے، کیا یہ فتویٰ صحیح ہے، کیا بیوہ اپنے حصہ کے علاوہ نفقہ لینے کی حقدار ہے؟ بینوا وتوجروا۔

جواب

صورت مسئولہ میں مدت حمل کا نفقہ مجموعہ ترکہ میں سے بیوہ کو لینے کا شرعاً صحیح قول کی بناء پر حق حاصل نہیں، نہ وہ مدت رضاعت کے نفقہ کی مستحق ہے، نیز مدت تربیت دو سال کے نفقہ کا مطالبہ نہیں کر سکتی، البتہ اپنا مہر لے سکتی ہے، بشرطیکہ معاف نہ کیا ہو، اور عبدالرشید مرحوم نے ادا بھی نہ کیا ہو، اس کے بعد تمام ترکہ جملہ ورثہ پر حسب حصص شرعیہ تقسیم ہوگا، اور بیوی کو اس میں سے آٹھواں…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو