الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نکاح فاسد میں ثبوت نسب ووجوب عدت

سوال

ہندہ نے مدت رضاعت میں زید کے حقیقی چھوٹے بھائی بکر کے ساتھ زید کی حقیقی ماں زینب کا دودھ پیا تھا، زید اور ہندہ کے والدین اس بات کو یاد رکھتے ہوئے اس گمان سے کہ ہندہ نے بکر کے ساتھ دودھ پیا ہے لہذا بکر کی رضاعی بہن بنے گی، زید کی رضاعی بہن نہیں ہوگی، لہذا زید کا نکاح مذکورہ بالا ہندہ کے ساتھ کر دیا اور لڑکا پیدا ہونے کے بعد معلوم ہوا کہ زید کی بیوی ہندہ مذکورہ زید کی بھی رضاعی بہن ہوئی اور رضاعی بہن محرمات میں سے ہے، اور فتاوی عالمگیری ص: ۲۰۳، ج:۲، میں لکھا ہے: رجل مسلم تزوج بمحارمه فجئن باولاد يثبت نسب اولاد منه…

جواب

نکاح فاسد وباطل کے متعلق فقہاء کی عبارات مختلف ہیں، کسی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں میں کوئی فرق نہیں کسی سے فرق بھی معلوم ہوتا ہے، چنانچہ علامہ شامی نے باب المهر ثبوت النسب، وجوب العدة، كتاب الحدود وغیرہ میں اس پر کلام کیا ہے، پھر ترجیح بھی مختلف ہوئی ہے، درمختار ۸۳۶، ج:۲، میں ہے لكن الصواب ثبوت العدة والنسب بحر اهـ. لہذا یہی راجح ہے، کیونکہ صواب کا مقابل خطا ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو