الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بغیر ہم بستری کے طلاق کی صورت میں عدت

سوال

ایک پچاس سالہ عورت کا نکاح ایک ساٹھ سالہ شخص سے ہوا، اور چھ دن کے بعد طلاق دیدی اور اس سے ہم بستری بھی نہیں کی، اب اس عورت کا نکاح ایک دوسرے آدمی سے کرنا چاہتے ہیں، تو اس کے لئے عدت ضروری ہے یا نہیں؟ یا اس کا نکاح بغیر عدت کے ہی ہو سکتا ہے؟

جواب

ہم بستری تو نہیں ہوئی، مگر ایسی تنہائی بھی ہر دو میں ہوئی کہ اگر ہم بستری کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے، یا ایسی تنہائی نہیں ہوئی، اگر ایسی تنہائی ہو چکی ہے، تو عدت واجب ہے، عدت کے بعد دوسرے شخص سے نکاح درست ہوگا، اس سے پہلے درست نہیں، اگر ایسی تنہائی نہیں ہوئی تو عدت واجب نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو