الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

خلوت فاسدہ میں عدت کا حکم

سوال

ایک شخص نے کسی عورت بالغہ شیبہ (یعنی اس عورت کا ایک دفعہ نکاح ہو چکا تھا) کو شادی کر کے مہینہ ڈیڑھ مہینہ کے بعد طلاق دیدی، اب مرد کہتا ہے کہ میں نے وطی کی ہے، عورت کہتی ہے میرے ساتھ وطی نہیں ہوئی، میں ایک بستر پر وہ دوسرے بستر پر میرے ساتھ اس کی پہلی بیوی کی لڑکی قریب ۱۰/۱۱ برس کی میرے بستر پر لیٹی ہوئی تھی، اس وجہ سے وہ وطی نہیں کر سکا، اور میرے ساتھ بات بھی نہیں ہوئی، اب اس عورت کا قول معتبر ہے، یا نہیں، اور اس کے قول سے خلوت صحیحہ مانی جائے گی، یا نہیں، اور اس عورت پر عدت آتی ہے، یا نہیں، عبارت کتب فقہ سے جواب…

جواب

جب زوجین میں تمکین وطی کے متعلق اختلاف ہو تو شرعاً منکر کا قول معتبر ہوتا ہے پس صورت مسئولہ میں عورت کا قول معتبر ہوگا: لو اختلف الزوجان فى التمكين من الوطى فالقول لمنكره ا هـ اشباه ص: ۳۷، عورت کے قول کے مطابق خلوت صحیحہ نہیں ہوئی، بلکہ خلوت فاسدہ ہوئی ولو كان معها نائم او اعمى لا يصح الخلوة.

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو