الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

طلاق قبل الدخول میں عدت نہیں

سوال

مسماۃ مجیدن بیوہ ہوگئی تھی، پھر اس کا نکاح شوہر کے رشتہ دار سے ہو گیا تھا، دوسری مرتبہ پھر بیوہ ہوگئی، تیسرا نکاح اس کا پھر شوہر کے رشتہ دار سے ہو گیا، لیکن یہ تیسرا شخص جس کا نکاح ہوا تھا اس کا نام سیدا ہے، نکاح کے بعد مسماۃ مجیدا مسمّٰی سیدا کے گھر نہیں گئی اور نہ کبھی مسماۃ مجیدن کا مسمی سیدا سے میل ہوا یہاں تک کہ سیدا نے طلاق دے دی ہے، اور مجیدن کو چھ ماہ سے حیض آنا شروع ہوا ہے، اب مسماۃ مجیدن کا چوتھا نکاح ہونے والا ہے، فی الحال نکاح ہو سکتا ہے یا عدت گزارنی پڑے گی، اور عدت کے روز کس قدر ہوں گے۔

جواب

اگر تیسرے شوہر سیدا نے اس عورت سے نہ جماع کیا نہ تنہائی کی ہے اور بغیر ان دونوں باتوں کے طلاق دی ہے تو اس عورت پر شرعاً عدت واجب نہیں جب چاہے نکاح کرسکتی ہے،

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو