زوجه معسر کا حکم
سوال
میری منکوحہ بیوی نے عدالت انگریزی پنجاب ہند میں دعوی اس بناء پر کیا کہ چونکہ میرے شوہر نے زائد از عرصہ ۳ سال نان ونفقہ ادا نہیں کیا لہذا مجھے نکاح ثانی کی اجازت دیدی جائے عدالت نے میری حاضری کا سمن جاری کیا چونکہ میں غیر ملک میں تھا، میں نے جواب تحریری روانہ عدالت کیا جو کسی خاص وجہ سے عدالت میں پیش نہیں کیا گیا میری بیوی نے جو فتوی عدالت میں پیش کیا اس میں صرف یہ تحریر ہے کہ اگر شوہر بیوی کے حقوق ادا کرنے سے انکار کرے اور خرچ بھی نہ دے تو جدائی ہوسکتی ہے پیشتر اس کے کہ عدالت میرا نکاح فسخ کرے عدالت نے مجھ سے کوئی…
جواب
اگر جواب دعوی میں طلاق تحریر نہیں کی تو طلاق واقع نہیں ہوئی شوہر کے ہوتے ہوئے عدالت کو اسکی جانب سے طلاق دینے کا اختیار نہیں البتہ اگر عدالت مسلم ہو اس بات کا اختیار ہے کہ شوہر پر زور ڈال کر نفقہ دلائے اگر نفقہ دینے پر عسرت کی وجہ سے قدرت نہ ہو تو نفقہ کی حسب حیثیت مقدار مقرر کر کے شوہر کے نام پر قرض لینے کی عورت کو اجازت دیدے اگر مالدار ہے پھر نفقہ نہیں دیتا تو عدالت اسکے مال…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔