الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایک بیوی کے حقوق ادا نہ کرنے کی صورت میں نکاح ثانی کی اجازت

سوال

ایک شخص شادی شدہ نے بغیر علم والدین واعزاء واہلیہ دوسری شادی جوان لڑکی سے کر لی نہ اس لڑکی کو اس کا علم ہوا کہ یہ شادی شدہ ہے، نکاح کے کافی دنوں کے بعد لڑکی کو معلوم ہوا ہے، کہ پہلی بیوی بھی ہے، اور اس کے بچہ بھی ہیں، مکان پر لانے کے بعد دونوں میں گزارہ اور نباہ مشکل ہو گیا، یہ مسئلہ تمام اعزاء کے لئے پریشانی کا باعث بن گیا اب یہ لڑکی اپنے والدین کے پاس سترہ ماہ سے مقیم ہے، شوہر نہ آتا جاتا ہے نہ نان ونفقہ دیتا ہے نہ کسی خط کا جواب دیتا ہے، نہ طلاق دیتا ہے، ان تمام حالات سے لڑکی پریشان ہے، کیا ان حالات میں لڑکی…

جواب

ابھی دوسرے نکاح کی اجازت نہیں لڑکی کو چاہئے کہ شوہر کیساتھ رہے اور اسکے حقوق ادا کرے اگر شوہر نہ رکھے اور حقوق زوجیت ادا نہ کرے تو اس سے طلاق حاصل کرلے یا خلع کرے یعنی بیوی مہر معاف کر دے اور شوہر طلاق دیدے اگر یہ صورت بھی نہ ہو سکے تو حاکم مسلم با اختیار کی عدالت سے شرعی طور پر فیصلہ کرائے اگر ایسا حاکم نہ ہو تو چند معزز دیندار مسلمانوں کی پنچایت سے جس میں کم از کم ایک معاملہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو