الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شوہر بیوی کے درمیان تنازع شدید

سوال

خالدہ بالغہ دختر زید نے خارجاً یہ سن کر کہ میرا باپ زید میرا عقد بکر سے جس کی ایک زوجہ موجود ہے، کر دیا ہے، اپنی والدہ کی معرفت اپنے باپ سے کہلایا کہ میرا عقد ایسے شخص سے جس کی ایک بیوی موجود ہے کیا گیا تو میں ہرگز نہ جاؤں گی، اور نہ میری رضا مندی ہوگی، باپ نے اپنی زوجہ کے ذریعہ سے خالدہ کو اطمینان دلایا کہ میں اس بکر سے عقد نہیں کر رہا ہوں، جس کی دوسری بیوی موجود ہے، بلکہ یہ وہ بکر ہے، جو کنوارا غیر شادی شدہ ہے، خلاصہ یہ ہے کہ موصوفہ کا عقد اس کی لاعلمی میں بکر سے کر دیا گیا، عقد کے بعد بھی خالدہ نے رونا شروع کیا…

جواب

خالدہ نے جن شرائط پر اجازت نکاح دی تھی، ان کے موجود نہ ہونے کی صورت میں بھی اگر اس نکاح کو جائز قرار دیا خواہ اعزہ واقرباء کے کہنے سے خواہ دنیوی شرم کی بنا پر تو شرعا وہ نکاح صحیح اور لازم ہو گیا، اب اگر نباہ دشوار ہے تو بہتر یہ ہے کہ کسی طرح سے شوہر سے طلاق حاصل کر لی جائے یا خلع کر لیا جائے، اگر شوہر اس پر کسی طرح آمادہ نہ ہو تو حاکم مسلم کی عدالت میں مقدمہ دائر کرنا چاہئے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو