الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شوہر فاسق ہو جائے تو زوجہ کیا کرے؟

سوال

لڑکی بوقت نکاح بالغہ تھی اور نکاح اس کی اجازت سے ہوا، دوسری بات یہ عرض ہے کہ اب جب کہ پہلی دفعہ جا کر گھر واپس آئی تو ناراضی ظاہر کی، اور اس پہلی ہی دفعہ میں خلوت صحیحہ ہو چکی اور اس پہلی ہی دفعہ میں جا کر لڑکے کا یہ فسق وفجور معلوم ہوا کہ بے نمازی ہے، کسی کسی وقت کہنے سے پڑھ بھی لیتا ہے، حقہ پیتا ہے، کبوتر بازی کرتا ہے، میلہ کا دلدادہ ہے، آج کل جو تماشے سنیما وغیرہ شائع ہیں ان میں شرکت کرتا اور شامل ہوتا ہے، ان وجوہ سے لڑکی دوبارہ جانے سے ناراض ہے اور یہ عیوب بوقت نکاح نہ تھے، یہ معلوم نہیں کہ نکاح سے کتنی مدت…

جواب

عیوب مذکوره بوقت نکاح موجود نہیں تھے، لہذا نکاح صحیح ہو گیا، بعد میں عیوب مذکورہ پیدا ہو جانے کی بناء پر نکاح باطل نہیں ہوگا: والكفاءة اعتبارها عند ابتداء العقد الخ درمختار ص: ۴۹۸، ج: ۲، البته اگر شوہر حقوق زوجیت ادا نہیں کرتا بلکہ ظلم کرتا ہے، اور نباہ دشوار ہے تو پھر کسی طرح اس سے طلاق حاصل کر لی جائے یا خلع کر لیا جائے اگر یہ بھی نہ ہو سکے، تو پھر حاکم مسلم با اختیار کی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو