” مجھ سے برخواست سے طلاق
سوال
ایک شخص اپنی بیوی سے گھر چلنے کو کہتا ہے کہ چلو بیوی کہتی ہے بہتر ہے وہ چلنے کا سامان کرتی ہے، مگر اس کا باپ روکتا ہے، کہ میری لڑکی کی طبیعت اچھی نہیں ہے، دو تین روز نہیں جاسکتی ہے، جس وقت طبیعت اچھی ہو جاو گی لے جانا اس پر یہ دوسرے شخص سے یہ کہتا ہے کہ میری بیوی سے کہہ دو کہ وہ مجھ سے برخواست یا نکاح سے برخواست،لڑکی والوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی لڑکی کا نکاح کہیں اور کر لیں، اس واقعہ سے تقریباً دو ماہ گذرتے ہیں، اب آیا اس لفظ سے طلاق واقع ہوگئی یا نہیں، اگر اپنی غلطی پر نادم ہو تو کیا حکم ہے، اور اگر غلطی کا اقرار…
جواب
اگر یہ لفظ لڑکی والوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی لڑکی کا نکاح کہیں اور کر لیں اگر شوہر نے بہ نیت طلاق کہا ہے تو طلاق واقع ہوئی، اگر ایک کی نیت کی ہے تو ایک ہوئی تین کی نیت کی ہو تو تین ہو گئیں، اگر طلاق کی نیت نہیں کی تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی: ولو قال تزوجی ونوی الطلاق او الثلاث صح وان لم ينو شيئا لم يقع كذا في العتابية اه (فتاوى عالمگیری ص: ۳۷۶، ج: ۱)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔