الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تین طلاق کے بعد بغیر حلالہ کے ساتھ رہنا

سوال

ایک شخص بے روز گار وبیکار ہے، عیال دار ہے، اسکی بیوی بھی مزدوری سے تنگی کی حالت میں گذر اوقات کر رہی ہے، دونوں میں نکما ہونے کی وجہ سے نبھاؤ نہیں ہوتا، خود جاہل وضدی ہونے کی وجہ سے اور بھاوج کے اشتعال دلانے سے متعدد مرتبہ جھگڑا ہو چکا، اور ایک یا دو بارتین طلاق غصہ میں دے چکا ہے، پھر بھی ساتھ رہتا ہے، جب اس سے پوچھا گیا تو کہتا ہے کہ نہ میں نے دل سے طلاق دی نہ نیت تھی بلکہ بھاوج کے کہنے سے ڈرانے کے لئے ایسا کہہ دیا ہے، اس صورت میں فرمائیں کہ شرعی کیا حکم ہے، اور بناؤ کی کوئی صورت شرعی نکلتی ہے، یا نہیں؟ فقط

جواب

اگر صاف لفظوں میں تین دفعہ طلاق دیدی ہے، چاہے بھاوج کے کہنے سے دی ہو تو طلاق مغلظہ ہوگئی، اب بغیر حلالہ کے ساتھ رہنا جائز نہیں، بیوی کو چاہئے کہ وقت طلاق سے تین ماہواری گزار کر دوسرے شخص سے باقاعدہ نکاح کرلے، صاف لفظوں میں طلاق دینے کیلئے نیت کا ہونا اور دل سے دینا ضروری نہیں ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو