نشہ اور جنون کی حالت میں طلاق دینا طلاق سکران
سوال
(۱) (الف) اپنی زوجہ کو بحالت نشہ طلاق دید یا یعنی تین دفعہ اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ میں نے تجھ کو طلاق دے دیا اور اس حالت میں ایک طلاق نامہ بھی تحریر کر دیتا ہے، تو ایسی صورت میں طلاق ہوتی ہے یا نہیں؟ اگر (۲) (الف) کے دوست (الف) کو محض اس خیال سے شراب پلاتے ہیں کہ وہ بحالت بحالت نشہ اسکی بیوی کو جو کہ عرصہ ۷ سال سے اپنے گھر بیٹھی ہے، یعنی اپنے ماں باپ کے یہاں اور وہ نان ونفقہ بھی نہیں دیتا ہے، اسکو شراب پلا کر اسکی بیوی کی موجودگی میں یا غیر موجودگی میں اسکو طلاق دلواتے ہیں، اور طلاق نامہ بھی تحریر کر دیتے ہیں، تو…
جواب
(۲) ایسی صورت میں بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، اگر شرعی اکراہ کر کے یعنی قتل وغیرہ کی دھمکی دے کر شراب پلائی ہے، اور الف کو ظن غالب تھا کہ اگر شراب نہ پی تو یہ لوگ واقعی قتل کر دیں گے، یا بہت زیادہ ماریں گے، کہ جس کا میں تحمل نہیں کر سکوں گا، تو ایسی صورت میں صحیح قول کی بناء پر طلاق واقع نہیں ہوتی۔ کذا فی الہندیہ لیکن شراب پلانے والے گنہگار ہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔