طلاق سكران جبراً / طلاق السكران واقع
سوال
ایک شخص کی عادت کثرت شراب نوشی ہے، اسی حالت میں اپنی زوجہ سے کہتا ہے تجھ پر طلاق یہ واقعہ ایک دفعہ نہیں، بلکہ متعدد بار بحالت سکر طلاق دیتا ہے، حتی کہ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ طلاق نامہ بھی لکھوالیا لوگوں کو اس واقعہ کا اچھی طرح علم ہو گیا کہ زبانی طلاق دے چکا ہے اور طلاق نامہ بھی تحریر ہو چکا۔ جس وقت وہ نشہ جاتا رہا تو کہتا ہے کہ میں نے طلاق نہیں دی بلکہ جو کچھ ہوا بیہوشی کی حالت میں، جس کا مجھ کو بالکل علم نہیں تو آیا اس کا ایسی حالت میں طلاق دینا عند الشرع شریف معتبر ہوگا یا نہیں؟
جواب
نشہ شراب کی حالت میں اگر کوئی شخص طلاق دیدے تو واقع ہو جاتی ہے، لہذا اگر عدت کے اندر اندر تین مرتبہ ایسی نوبت آچکی ہے، تو طلاق مغلظہ واقع ہوگئی: طلاق السكران واقع اذا سكر من الخمر او النبيذ وهو مذهب اصحابنا. كذا في المحيط اهـ عالمگیری ص: ۳۵۳، ج ۱.
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔