الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیوی کو کنویں میں دھکا دینے سے طلاق نہیں ہوئی

سوال

زید اپنی بیوی کے پاس سسرال میں آیا، تین دن بعد بیوی سے کہا کہ تم سے ضروری بات علیحدگی میں کرنی ہے، تم فلاں کنویں پر مجھے ملنا، ہندہ وہاں گئی، ابھی بیٹھی ہی تھی کہ زید نے بیوی کو کنویں میں دھکا دیدیا، اور وہاں سے چلا گیا، پھر لوگوں نے نکالا اور اس نے واقعہ بیان کیا، اب ہندہ جانے کو تیار نہیں ہے، نہ زید طلاق دیتا ہے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ ہندہ کا نکاح باقی ہے یا نہیں؟ جبکہ اس نے اپنے سے ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کے لئے دھکا دیا تھا؟

جواب

زید کی اس ظالمانہ حرکت کے باوجود نکاح ختم نہیں ہوا، بلکہ نکاح باقی ہے کہ اب اگر وہ نہ لیجا کر آباد کرتا ہے، نہ طلاق دے کر آزاد کرتا ہے تو کم از کم تین معزز دیندار مسلمانوں کی شرعی کمیٹی بنالی جائے، جس میں ایک معاملہ شناش معتبر عالم بھی شریک رہے، اس کمیٹی میں ہندہ درخواست دے کہ زید میرا شوہر ہے وہ میرے حقوق ادا نہیں کرتا، اور اس کا مجھ پر یہ ظلم ہے شرعی کمیٹی جملہ امور کی تحقیق…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو