والدہ کے حکم سے بیوی کو طلاق دینا
سوال
زید ایک اچھے گھرانہ کا فرد ہے، لیکن عرصہ دراز سے گانا بجانا سیکھتا ہے اور ریڈیو پر گانے سنتا ہے، شادی شدہ ہے، پانچ بچوں کا باپ ہے، زید بر سر روزگار نہیں ہے، زید نے غیر کفو میں مخفی طور پر عقد ثانی کر لیا ہے، مندرجہ بالا خانگی حالات کے پیش نظر زوجہ ثانیہ سے نبھاؤ اور گذر بسر کی امید نظر نہیں آتی ہے زید کی والدہ اس صورت حال سے بہت متاثر ہے لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ اگر زید کی والدہ زید کو زوجہ ثانیہ کے بارے میں ہدایت دے یا حکم کرے کہ زید اس کو اپنے عقد سے بادائے حقوق شرع خارج کر دے اور طلاق دیدے تو کیا زید کی…
جواب
کیا زید اتنا سعادت مند ہے کہ ضعیف والدہ کے حکم سے زوجہ ثانیہ کو طلاق دیدے گا؟ اگر ایسا ہے تو اب تک والدہ نے ان حالات کے متعلق حکم شرعی کیوں نہیں دیا جن کا تذکرہ شروع خط میں ہے (گانا وغیرہ) اگر وہ حالات والدہ کے لئے ناگوار نہیں بلکہ قابل تعریف یا قابل برداشت ہیں، حالانکہ وہ شرعاً معصیت ہیں تو پھر عقد ثانی تو کوئی شرعی عیب بھی نہیں، اس کے لئے زید کے حق میں یہ بھی ضروری نہیں کہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔