بد چلن عورت کو طلاق
سوال
زید اپنی بیوی کو جو کہ بد چلن ثابت ہوئی ہے نکال دیتا ہے، لیکن طلاق نہیں دیتا، ایسی شکل میں زید کو طلاق دینا ضروری ہے یا نہیں؟ اگر وہ عورت اپنے فعل پر برابر قائم رہے اور زید نے طلاق نہ دی ہو تو اس عورت کے فعل کا گناہ زید کے ذمہ ہے، یا نہیں؟
جواب
ایسی حالت میں زید کو چاہئے کہ اپنی عورت کو بدچلنی سے روکے اور اس کی حفاظت کرے، اس کے بعد بھی اگر وہ باز نہ آئے، تو بھی زید کے ذمہ طلاق دینا واجب نہیں لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة اور زید کے ذمہ اس کا گناہ بھی نہیں لیکن اس حالت میں زید کے لئے افضل یہی ہے کہ اس کو طلاق دیدے بشرطیکہ اس کا مہر پورا کرنے اور اپنے نفس کو معصیت سے روکنے پر قادر ہو، ہکذا في تنبيه الغافلين؟
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔