ماں باپ کے کہنے سے بیوی کو طلاق
سوال
ہم دونوں میاں بیوی میں باہم تعلق ہے، میں مدرسہ میں پڑھتا ہوں اور بیوی اپنے ماں باپ کے پاس رہتی ہے، میری والدہ بیمار ہوگئی ہے، دادا صاحب بیوی کو لے کر آئے ہیں، تا کہ اپنی ساس کی خدمت کرے، دو روز رہنے کے بعد بیوی اپنے ماں باپ کے پاس بغیر اجازت چلی گئی ہے، محلہ کی عورتوں نے بے حد سمجھانے کی کوشش کی، دادا صاحب نے بھی کوشش کی ہے، مگر کسی کی بات پر عمل نہیں کیا، میری چچی نے ایک میل پر جا کر اس کو روکا ہے، چونکہ اس کو بعد میں معلوم ہوا کہ بغیر اجازت جا رہی ہے، وہاں پر اس کی صندوق وغیرہ پکڑی ہے، آپس میں پٹکم پڑکا ہوئی ہے،…
جواب
ماں باپ کو آپ کی بیوی کی حرکت ناگوار ہوئی کہ وہ ایسے پریشانی کے وقت بلا اجازت چلی گئی، اب وہ معافی چاہتی ہے، خود جا کر سسرال میں اپنی ساس اور سسر کو راضی کرلے اور گھر کا کام شروع کر دے، معافی مانگ لے اور آپ بھی سفارش کر دیں، اللہ تعالیٰ ان کے دل کو نرم فرمادیں جس سے وہ معاف کر دیں، طلاق دینے سے جب معصیت میں گرفتار ہونے کا اندیشہ ہے، تو ماں باپ کے کہنے سے طلاق نہ دی جائے، ماں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔