الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ناقض وضو کا تحقق وسط وضو میں ہو جائے تو سب وضو کا اعادہ ہے

سوال

ایک شخص وضو کے دوران مثلاً چہرہ اور ہاتھ دھو چکا تھا، اس کے بعد خروج ریح یا خروج دم پیش آ گیا۔ ایسی صورت میں وہ شخص از سرنو وضو کرے یا بغیر اعادہ کے وضو مکمل کرے؟ ایک فریق کہتا ہے کہ وضو مکمل نہیں ہوگا تو ٹوٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لہذا بغیر اعادہ کے وضو مکمل کر کے نماز پڑھ لے نماز درست ہو جائے گی۔ دوسرا فریق کہتا ہے کہ جب نواقض وضو کامل وضو کو توڑسکتا ہے تو دو تین رکن کو بطریق اولی توڑ سکتا ہے۔

جواب

وضو مکمل کرنے سے پہلے اگر ناقض وضو پیش آ جائے تو جن اجزاء وضو کو پہلے ادا کر چکا ہے انکا بھی نقض ہو گیا، از سرنو وضو کرنا ضروری ہے یہ مسئلہ صریحہ جزئیہ لطحطاوی علی مراقی الفلاح شامی، الاشباہ والنظائر وغیرہ میں موجود ہے، قیاس کرنے کی ضرورت ہی نہیں تتبع کی ضرورت ہے، ماشاء اللہ کتابیں آپ کے پاس موجود ہیں، تلاش کرلیں، یہی حکم تیمم کا ہے، تیمم کی شرط سادس کے ذیل میں مراقی الفلاح…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو