کان سے لگا ہوا گندہ پانی ناقض وضو ہے
سوال
دس سال کے عرصہ سے اب تک جبکہ عمر بیس سال کی ہو چکی ہے کان سے گندہ پانی نکلتا ہے اور کبھی کبھی کان میں درد بھی ایک دو روز کے لئے ہو جاتا ہے لیکن پانی ہمیشہ نکلتا رہتا ہے تو اس سے اسکا وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں؟ اسے معذور قرار دیا جائے گا یا نہیں۔ کیونکہ وہ پنج وقته امامت بھی کرتا ہے تو اسکی امامت درست ہے یا نہیں؟ تراویح پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟ وضو کرتے وقت کان کو اچھی طرح سے صاف کر لیتا ہے۔ گھنٹے دو گھنٹے کے بعد روئی اگر کان میں نہیں رکھتا ہے تو کان سے گندہ پانی نکل آتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟
جواب
جو گندہ پانی کان سے نکلتا ہے اور درد بھی کان میں کبھی کبھی ہوتا ہے وہ ناقض وضو ہے۔ اگر وہ شرعاً معذور ہے تو اسکی امامت درست نہیں۔ اگر غیر معذور ہے یعنی اس کو اتنا وقت ملتا ہے کہ با وضو نماز شروع کرے اور بغیر پانی نکلے نماز ادا کرے تو نماز امام اور مقتدیوں کی سب کی درست ہوگی۔ کبیری شامی، عالمگیری میں تفصیل مذکور ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔