الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

پیشاب خانه مشرق رویہ بن گیا ہے اس کو کیا کریں!

سوال

ایک مسجد میں پیشاب خانے مشرق رویہ بن گئے ہیں پیشاب اور استنجاء کرتے ہوئے مغرب کو پشت ہوتی ہے، انجینئر وغیرہ ایک اور مسجد کی نظیر دیتے ہیں کہ وہاں جاننے والے نہیں تھے، ایک عالم صاحب نے اس طرح بول و براز کو حدیث وفقہ کی رو سے مکروہ تحریمی جتلایا کیا یہ صحیح ہے، اور دوسری مسجد کی نظیر کے پیش نظر کیا وہ پیشاب خانے باقی رکھے جائیں یا توڑ کر جنوباً وشمالاً بنایا جائے؟

جواب

حدیث پاک میں قبلہ کی طرف رخ یا پشت کر کے بول و براز کی ممانعت آئی ہے پھر کسی مسجد میں اگر غلط طریقہ ناواقفیت یا بے توجہی کی بنا پر اختیار کر لیا گیا تو اس کو نظیر میں پیش کرنا غلط ہے اسکو بھی حدیث پاک کے تحت کیا جائے اس خام صورت کی وجہ سے حکم شرعی کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا اسلیے توڑ کر شمالاً وجنوباً رخ بنایا جائے۔ لا تستقبلوا القبلة ولا تستدبروها (الحديث)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو