کنویں میں کسی جانور کے مر کر سڑ جانے سے پاکی کا طریقہ
سوال
کنویں کے اندر کسی جانور کے مر کر سڑ جانے سے امام محمد رحمہ اللہ کے قول کے مطابق تین سو ڈول پانی نکالنے سے کنواں پاک ہو جاتا ہے۔ ہمارے شہر کے کنوؤں میں آٹھ سوڈول کے قریب پانی ہوتا ہے تو ایسی حالت میں تین سو ڈول پانی نکالنا کافی ہوسکتا ہے؟ یا تمام پانی نکالنا ضروری ہے جب کہ قوم میں سستی بھی پیدا ہو چکی ہے۔
جواب
اصل تو یہ ہے کہ تمام پانی نکالنا ضروری ہے اگر پانی ختم نہیں ہوتا بلکہ پیدا ہوتا رہتا ہے، تو دو عادل تجربہ کار لوگوں کی رائے معلوم کر لی جائے وہ اس کنویں میں جس قدر پانی بتائیں اتنی مقدار نکال دی جائے اس ضابطہ کے ماتحت امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ وہاں عامہ اسی قدر پانی ہوتا تھا یہ بات نہیں کہ دوسوڈول کو بہر صورت متعین فرمایا گیا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔